Skip to content
Lyric
Dive
Public playlists
My playlists
Search
Sign in
Recitation
Parveen Shakir
Popularity · Low
+
🇵🇰 Urdu · Original
0
0
YouTube
Searching YouTube...
Lyrics
Original
Translation
Bilingual
رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہہ دے
آج کی شب نہ میرے پاس آئے
آج تسکینِ مشامِ جاں کو
دل کے زخموں کی مہک کافی ہے
یہ مہک آج سرِ شام ہی جاگ اُٹھی ہے
اب یہ بھیگی ہُوئی بوجھل پلکیں
اور نمناک ،اُداس آنکھیں لیے
رت جگا ایسے منائے گی کہ خود بھی جاگے
اور پَل بھر کے لیے، میں بھی نہ سونے پاؤں
دیو مالائی فسانوں کی کسی منتظرِ موسمِ گل راجکماری کی خزاں بخت، دُکھی رُوح کی مانند
بھٹکنے کے لیے
کُو بہ کُو ابرِ پریشاں کی طرح جائے گی
دُور افتادہ سمندر کے کنارے بیٹھی
پہروں اُس سمت تکے گی کہ جہاں سے اکثر
اُس کے گم گشتہ جزیروں کی ہَوا آتی ہے
گئے موسم کی شناسا خوشبو
یوں رگ و پے میں اُترتی ہے
کہ جیسے کوئی چمکیلا، رُوپہلا سیال
جسم میں ایسے سرایت کر جائے
جیسے صحراؤں کی شریانوں میں پہلی بارش
غیر محسوس سروشِ نکہت
ذہن کے ہاتھ میں وہ اِسم ہے
جس کی دستک
یاد کے بند دریچوں کو بڑی نرمی سے
ایسے کھولے گی کہ آنگن میرا
ہر دریچے کی الگ خوشبو سے
رنگ در رنگ چھلک جائے گا
یہ دلاویز خزانے میرے
میرے پیاروں کی عطا بھی ہیں
میرے دل کی کمائی بھی ہیں
اِن کے ہوتے ہُوئے اوروں کی ضرورت کیا ہے
رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہہ دے
آج کی شب نہ میرے پاس آئے