Skip to content
Lyric
Dive
Public playlists
My playlists
Search
Sign in
HEARTBREAK CITY
Umair
Popularity · High
+
🇵🇰 Urdu · Original
0
0
Listen
YouTube
1
2
3
0:00 / 0:00
Loading YouTube player...
Lyrics offset
Synced
Lyrics
Original
Translation
Bilingual
اس جگہ سے جو ملنا تھا مل چکا ہے
تُو یہاں پر، پر دل تو وہاں ہے، it's time to go
تھے یہاں پہ تولے سے مطلبی رشتے
اور ادھورے انجانے سے قصے، ان کو چھوڑ دو، uh
I'm living in the heart of a heartbreak city
نہ اپنے ہیں یہاں، نہ اپنی ہے یہ مٹّی، it's time to go, uh
When living in the heart of a heartbreak city
اور ٢٤ گھنٹے کام سے ملتی نہ چھٹّی تو، بھائی، چلو
وہی جو ماں کو اب دی ہوئی قسم ہے
یا جو ابّو سے میری لگن ہے اس کا کیا کروں؟
وہ شرارت جو بچپن سے گم ہے
اس کو ڈھونڈوں اب پچھلے قدم میں یا چھوڑ دوں؟
اس جگہ سے جو ملنا تھا مل چکا ہے
تُو یہاں پر، پر دل تو وہاں ہے، it's time to go
تھے یہاں پہ تولے سے مطلبی رشتے
اور ادھورے انجانے سے قصے، I'm letting go
I'm living in the heart of a heartbreak city
نہ اپنے ہیں یہاں، نہ اپنی ہے یہ مٹّی، it's time to go, uh
When living in the heart of a heartbreak city
اور ٢٤ گھنٹے کام سے ملتی نہ چھٹّی تو، بھائی، چلو
ٹیڑھے سوال خود سے پوچھتا رہوں
باتیں اکثر بھولتا رہوں
پہیلیاں میں بوجھتا رہوں
دل کی گہرائیوں میں ڈوبتا رہوں
راتیں بھی صبح لگیں، میں گم رہوں خیالوں میں
ان لوگوں پہ اب کیا ہی میں لکھوں
یہ زندگی سزا لگے، کچھ اپنے بھی بلا رہے
اس شور میں بھی ڈھونڈ رہا سکون
یہ بستے کھلتے ہی نہیں، کہیں بھی لے چلو
جل رہے جب دھوپ میں تو سایہ بھی بنو
یا وعدے نہ کرو، یا نبھایا بھی کرو
خدا نے دی کلا تو اس کو ضایع نہ کرو
کیا ہوگی بات جب بنیاد کچھ نہ ہو
کھلی کتاب، ادھر راز کچھ نہ ہو
کیسی مثال جب مجال کچھ نہ ہو
زہر بھرا ہو گلاس میں تو یاد کچھ نہ ہو
تیرا میں وہ خواب جس کے بعد کچھ نہ ہو
کھیت ہو یا باغ، پر ناشاد کچھ نہ ہو
بیج ہو یا شاخ، پر برباد کچھ نہ ہو
چھوڑا جو یہ ہاتھ، تیرے پاس کچھ نہ ہو
پھر کس کو میں برا کہوں، اب تجھ سے کیا گلا کروں
یہ قصے تو سناتا رہوں کہ آگے تو بڑھو
خود بتاؤ، اور کیا کروں، کتنی جنگیں فتح کروں
تُو جب بھی بولے حاضر ہوں، ان جوتوں میں چلو، let's go
I'm living in the heart of a heartbreak city
نہ اپنے ہیں یہاں، نہ اپنی ہے یہ مٹّی، it's time to go, uh
When living in the heart of a heartbreak city
اور ٢٤ گھنٹے کام سے ملتی نہ چھٹّی تو، بھائی، چلو
لے چلو، وہ بارش کی بوندیں، وہ سردی کی دھن یاد آئی
میں بن بتائے آیا، دروازے پر تُو چلی آئی
تجھ کو قدموں کی پہچان ہے
آنکھیں نم، دل بے جان ہے
ایسی عادت، ہر آہٹ پر اٹھتے ہیں ہم
اب کیا کریں ہم؟
اب کیا کریں ہم؟
تُو اتنا پاس تھا، سب ہو گیا ختم
اب کیا کریں ہم؟
اب کیا کریں ہم؟
یہ خوش فہمیاں نہیں ہوتی میری کم
اب کیا کریں ہم؟
اب کیا کریں ہم؟
تُو اتنا پاس تھا، سب ہو گیا ختم
اب کیا کریں ہم؟
اب کیا کریں ہم؟
یہ خوش فہمیاں نہیں ہوتی میری کم
روز سنور کے بیٹھ جاتا ہوں میں گھر میں
جیسے آ رہا ہو کوئی مجھ سے ملنے
"مصروف ہوں،" میں کہتا ہر کسی کو
اصل میں کام نہیں بچا ہے کوئی نظر میں
تیری الماریوں میں جھانکوں
یا بستروں کے نیچے یا تجوریوں کے اندر
کہیں کوئی خط میرے نام تو نہیں
تُو نے بھیجا کوئی سلام تو نہیں
ملے مٹّی کے وہ گلّک، اس میں چند ٹکے جما ہیں
ان کی قیمت ہی کیا، جانم
تیری یاد کا انعام تو نہیں
لگایا کوئی الزام تو نہیں
میں بھول چکا ہوں وہ چہرہ
کیا اب بھی وہ ویسی ہی دکھتی ہے؟
میں کیوں لکھوں اس پر اب گانے؟
وہ مجھے تو خط نہیں لکھتی ہے
میں یہاں، پر دل تو وہاں ہے
یہ کیسا امتحاں ہے؟
اب اتنا وقت کہاں ہے
کہ منزل اک جہاں ہے
بادلوں سے آگے
لے چلوں تجھے وہاں پہ جہاں یہ سورج ڈوبتا نہیں
کیوں نہ پوری ہوں مرادیں؟
میں ناراض ہو بھی جاؤں، تُو منا لینا، کوئی پوچھتا نہیں